بسم اللہ الرحمن الرحیم

مجھے کہنا ہے کچھ۔۔۔۔

جولائ کا شمارہ ایک بار پھر ایک اور نئ آب و تاب کے ساتھ پیش ہے۔ماشاءاللہ ’سمت‘ روز بروز ترقّی کی سیڑھیاں  چڑھتاجا رہا ہے۔ یہ سب آپ کے تعاون سے اور ظاہر ہے کہ ہماری ان تھک کوششوں سے ممکن ہو سکا ہے۔ اردو تحریر ابھی بھی ترقّی پذیر ہے، اور ہمارے ادیبوں شاعروں نے اب تک اسے نہیں اپنایا ہے۔ اور جو تخلیقات بھی موصول ہوئیں وہ سبھی ان پیج کی فائلوں کی شکل میں تھیں۔ ان کو اردو تحریر میں تبدیل کرنے کے بعد بھی بے شمار اغلاط رہ جاتی ہیں جن کو دور کرنا بھی کارے دارد  بلکہ بارِ گراں ہے۔۔ جس کو یہ ناتواں اُٹھا لایا۔

اس شمارے میں ایک شاعرہ کے لۓ گوشہ مخصوص کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ صاحبِ کتاب ہیں لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ہند و پاک کے ادبی حلقوں میں ان کی خاطر خواہ پذیرائ ہوئ ہو۔ اب فیصلہ کرنا آپ کے ہاتھ میں ہے کہ کیا ان کے قلم نسے اردو شاعری میں ایک نئ فضا تعمیر نہیں کی ہے؟ ان کا لہجہ ان کے نام کی ہی طرح انوکھا اور اچھوتا ہے۔ اور یہ نام ہے  فرزانہ نیناں۔

پچھلے مہینوں نے جن عزیز ہستیوں کو ہم سے چھین لیا ان میں دو نام اہم ہیں۔ موسیقارِ اعضم نوشاد علی اور منفرد لہجے کے شاعر نشتر خانقاہی۔ دعا ہے کہ خداان کے مرتبے بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے

اعجاز عبید۔
شمارہ 4

جولائ تا ستمبر 2006

 

سرورق

مجھے کہنا ہے۔۔۔

خصوصی گوشہ

یادِ رفتگاں

گاہے گاہے۔۔۔۔۔

نظمیں

مضامین

غزلیں

کہانیاں

کتابوں کی باتیں

آپ فرماتے ہیں

Library

Mehfil